وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد تاخیر کا شکار ، پیپلز پارٹی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے
اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں جاری ہلچل مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد تاخیر کا شکار ہو گئی ہے، جب کہ پیپلز پارٹی تاحال نئے قائدِ ایوان کے نام پر متفق نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں اہم سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے باوجود عدم اعتماد کی تاریخ اور نئے قائدِ ایوان کے نام کا اعلان مؤخر کر دیا۔ بلاول بھٹو زرداری کی میڈیا ٹاک کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے نئے دھڑےخصوصاً بیرسٹر گروپ اور مہاجرین کے ارکانِ اسمبلی تحریکِ عدم اعتماد میں تاخیر اور اندرونی مشاورت میں نظرانداز کیے جانے پر سخت ناراض ہیں۔
کئی مہاجرین ارکانِ اسمبلی نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کو جلد بازی کا فیصلہ قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں شامل ہونے کے بعد نہ تو انہیں قیادت تک رسائی دی گئی اور نہ ہی اہم اجلاسوں میں باعزت نشستیں ملیں۔
ذرائع کے مطابق بیرسٹر گروپ اور مہاجرین ارکانِ اسمبلی نے اندرونِ خانہ شکایت کی ہے کہ سینئر رہنماؤں کی مشاورت میں انہیں شامل نہیں کیا جاتا، جب کہ یاسر سلطان اور دیگر اراکین نے قیادت کے رویے پر نالاں ہونے کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے بھی پیپلز پارٹی قیادت سے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "مجھے اجلاس سے کیوں اٹھایا گیا؟”تنویر الیاس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی میں پانچ ارکانِ اسمبلی کو شامل کرایا، لیکن انہیں بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اجلاس کے دوران چوہدری ریاض جو تحریکِ عدم اعتماد کے مرکزی محرک سمجھے جاتے ہیں، وضاحتیں دیتے رہے، تاہم سردار تنویر الیاس نے ان پر سخت تنقید کی، جس سے پارٹی کے اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہو گئے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے پرانے ارکان نے تنویر الیاس کو اجلاس سے دور رکھنے پر خوشی کا اظہار کیا۔
سیاسی تجزیہ:
سیاسی مبصرین کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد میں تاخیر پیپلز پارٹی کی اندرونی کمزوریوں اور دھڑوں کی تقسیم کو نمایاں کر رہی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے سامنے دو بڑے چیلنج ہیں — ایک جانب پرانے پارٹی رہنماؤں کا دباؤ، جو کسی "بیرونی چہرے” کو قیادت میں قبول نہیں کرنا چاہتے، اور دوسری جانب نئے شامل ہونے والے گروپس کی ناراضی، جو اپنی سیاسی حیثیت منوانا چاہتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر فہد ملک کے مطابق“یہ تاخیر صرف حکمتِ عملی نہیں بلکہ قیادت کے اندر مشاورت کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی نے جلد فیصلہ نہ کیا تو آزاد کشمیر میں پارٹی کے اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔”
دوسری جانب ایک اور تجزیہ کار سمیع اللہ چوہدری کے بقول“تنویر الیاس کی ناراضی وقتی نہیں، وہ پارٹی میں اثر و رسوخ چاہتے ہیں۔ اگر انہیں مسلسل نظرانداز کیا گیا تو یہ دھڑا مستقبل میں علیحدگی یا نئی صف بندی کا سبب بن سکتا ہے۔”
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد میں تاخیر نہ صرف چوہدری انوارالحق کے لیے وقتی ریلیف ہے بلکہ پیپلز پارٹی کے اندر قیادت کے بحران کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔
