"آج کا دن افواجِ پاکستان اور شہدائے آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے” وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق

0

مظفرآباد:وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق نے 78ویں یومِ تاسیس کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1947 میں آزاد کشمیر پسماندہ ترین علاقوں میں شمار ہوتا تھا، لیکن آج یہ خطہ ہر شعبے میں ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آزاد کشمیر میں انسانی آزادیوں کی صورتحال مثالی ہے اور یہاں کوئی سیاسی قیدی موجود نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں ایک مضبوط اور آزاد عدالتی نظام قائم ہے جو انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر اس خطے کی آزادی اور سلامتی کی حفاظت کی۔

چوہدری انوار الحق نے کہا کہ آزاد کشمیر کا یہ خطہ عوام، قبائلی مجاہدین اور افواجِ پاکستان کی بے مثال قربانیوں کی بدولت آزاد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ "آپریشن بنیان المرصوص” اور "معرکہ حق” نے دنیا کی جنگی تاریخ میں نئے باب رقم کیے، اور پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کو تمام محاذوں پر شکست دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ "معرکہ حق” کی کامیابی کا کریڈٹ افواجِ پاکستان اور سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو جاتا ہے، جن کی قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان کے دشمنوں کو شکست ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام بھارتی جبر کے باوجود آج بھی آزادی کے جذبے سے سرشار ہیں۔ بھارت مقبوضہ علاقے میں آبادی کی ہیئت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبایا نہیں جا سکتا۔

چوہدری انوار الحق نے حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی آواز بلند کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نہ صرف جغرافیائی سرحدوں بلکہ عوام کی جان، مال اور عزت کی بھی محافظ ہیں۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ آزاد کشمیر حکومت مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے تحریکِ آزادی کشمیر کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے قیام کا مقصد ہی مقبوضہ کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ "آج ہمارے لیے سجدہ شکر بجا لانے کا دن ہے اور ہم یہ دن گزشتہ برسوں کی نسبت زیادہ جوش و خروش سے منا رہے ہیں۔”

چوہدری انوار الحق نے کہا کہ "آپریشن بنیان المرصوص” میں پاکستان کی شاندار کامیابی نے سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کے عوام میں نئی روح پھونک دی ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کا یہ خطہ ہمارے اسلاف کی لازوال قربانیوں کی بدولت آزاد ہوا۔ 13 جولائی 1931 کو ریاست جموں و کشمیر کے 22 مسلمانوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر ڈوگرہ استبداد کے خاتمے کی بنیاد رکھی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ 19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی، جس نے ریاست کے سیاسی مستقبل کا تعین کیا۔انہوں نے یاد دلایا کہ نومبر 1947 میں جموں میں مسلمانوں کی اجتماعی نسل کشی تاریخ کا ایک انسانیت سوز باب ہے، جس میں بھارتی فوج، ڈوگرہ فورسز اور آر ایس ایس کے جتھوں نے تقریباً تین لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا۔

چوہدری انوار الحق نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں نے اس وقت جموں و کشمیر سے آنے والے مہاجرین کو اپنے سینے سے لگایا اور انہیں باعزت مقام دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو قوم شکر ادا نہیں کرتی، اس سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔وزیراعظم آزادکشمیر نے اپنے خطاب کا اختتام اس یقین کے ساتھ کیا کہ "ہم سب مل کر پاکستان کی تکمیل کا خواب شرمندۂ تعبیر کریں گے۔”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.