سعودی عرب کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور
ریاض :سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کر کے خطے میں امن قائم کیا جا سکے۔
سعودی وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی پر مملکت کو تشویش ہے اور وہ تمام فریقین سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کا مطالبہ کرتی ہے۔ بیان میں خاص طور پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا ذکر کیا گیا۔
سعودی عرب نے کہا کہ خطے میں مزید عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں اس لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سپورٹ کرتے ہوئے سیاسی حل کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔
بیان میں آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کو معمول پر لانے پر بھی زور دیا گیا اور کہا گیا کہ 28 فروری سے پہلے کی صورتحال بحال کی جائے تاکہ بحری جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا کہ اس کے دفاعی نظام نے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ناکارہ بنا دیا تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واقعات اس وقت سامنے آئے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی 7 ’فاسٹ بوٹس‘ کو نشانہ بنایا ہے جبکہ ایران نے سمندری راستہ جزوی طور پر بند کر رکھا ہے۔
پاکستان اس پورے عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے بلکہ گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کے انعقاد میں بھی سہولت فراہم کر چکا ہے۔
مزید برآں، پیر کے روز پاکستان نے امریکی کارروائی کے دوران ضبط کیے گئے ایرانی جہاز کے 22 عملے کے افراد کی رہائی بھی ممکن بنائی جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم اعتماد سازی کا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
