چینی سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کی نگرانی، ایران پر سنگین الزامات سامنے آگئے
فنانشل ٹائمز رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی حساس تنصیبات کی مانیٹرنگ کا انکشاف، چین کی تردید
لندن : برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور حساس تنصیبات کی نگرانی کی۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کے اواخر میں ایرانی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے “TEE-01B” نامی سیٹلائٹ حاصل کی، جو چین سے خلا میں بھیجے جانے کے بعد ایران کے کنٹرول میں دی گئی۔ اس سیٹلائٹ کو اہم امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق سیٹلائٹ نے مارچ میں مختلف مقامات کی ہائی ریزولوشن تصاویر حاصل کیں، جنہیں مبینہ طور پر ڈرون اور میزائل حملوں سے قبل اور بعد میں استعمال کیا گیا۔ ان اہداف میں پرنس سلطان ائیر بیس بھی شامل ہے، جہاں 14 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کی تصدیق کی تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ کے ذریعے موافق السالتی ائیر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریب علاقے، اربیل ائیرپورٹ، کویت کے کیمپ بیوہرنگ اور علی السالم ائیر بیس، جبوتی میں کیمپ لیمونئیر اور عمان کے دقم ائیرپورٹ سمیت متعدد مقامات کی نگرانی کی گئی۔
اس کے علاوہ خلیجی ممالک کے سویلین انفراسٹرکچر جیسے خورفکن بندرگاہ، قیدفہ پاور و ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بحرین کی البا ایلومینیم فیکٹری کو بھی مانیٹر کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس سیٹلائٹ کی ہائی ریزولوشن صلاحیت تقریباً نصف میٹر تک ہے، جو ایران کو اہداف کی درست شناخت اور حملوں کی مؤثر منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے برعکس ایران کا سابقہ سیٹلائٹ “نور-3” تقریباً 5 میٹر ریزولوشن تک محدود تھا۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے اس سیٹلائٹ سسٹم کے کنٹرول کے لیے تقریباً 36.6 ملین ڈالر ادا کیے، جس میں لانچنگ، تکنیکی معاونت اور ڈیٹا انفراسٹرکچر شامل تھا۔ چینی کمپنیوں Earth Eye Co اور Emposat نے اس منصوبے میں سیٹلائٹ اور گراؤنڈ نیٹ ورک فراہم کیا۔
دوسری جانب چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ کی مخالفت کرتا ہے اور ہمیشہ عالمی امن کے فروغ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔
