لندن: برطانوی بادشاہ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کو سرکاری عہدے میں بدانتظامی کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا۔اینڈریو ماؤنٹ بیٹن پر الزام ہے کہ انہوں نے خفیہ سرکاری دستاویزات بدنام زمانہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کو فراہم کیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو جمعرات کے روز ٹیمز ویلی پولیس کے تفتیش کاروں نے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔
پولیس اس ماہ پہلے ہی اعلان کر چکی تھی کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ اینڈریو نے بطور تجارتی ایلچی خدمات انجام دیتے ہوئے جیفری ایپسٹین کو سرکاری دستاویزات فراہم کیں۔
اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ماضی میں ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غیر قانونی عمل کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان سے دوستی پر افسوس کا اظہار بھی کر چکے ہیں، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے حالیہ دستاویزات کے اجرا کے بعد انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔یہ گرفتاری شاہی خاندان کے کسی سینئر رکن کی اس نوعیت کی پہلی گرفتاری قرار دی جا رہی ہے۔
شاہ چارلس نے اپنے بیان میں کہا کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے بارے میں سرکاری عہدے میں بدانتظامی کے شبہے کی خبر گہری تشویش کا باعث ہے اور حکام کو شاہی خاندان کی مکمل اور بھرپور حمایت حاصل رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
