سکیورٹی کے لیے سب سے زیادہ فنڈز خیبرپختونخوا کو ملے، پھر بھی صورتحال خراب ہے: ڈاکٹر عباد اللہ

0

خیبر پختونخوا میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور اگرچہ سردیوں میں آپریشن مشکل ہوتا ہے، لیکن اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں بچتا۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد عمران خان نے اسے یومِ فتح قرار دیا تھا، جبکہ ان کے بقول طالبان کو پاکستان لانے والے سہولتکار بھی موجود ہیں اور دہشت گردوں کو بھتہ بھی دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ سرد موسم میں آپریشن کے باعث لوگوں کے لیے گھر چھوڑنا مشکل ہوتا ہے، مگر صوبائی حکومت ایک طرف آپریشن کی مخالفت کرتی ہے اور دوسری جانب خود آپریشن کے لیے فنڈز بھی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی میں کچھ فیصلے ہوتے ہیں جبکہ باہر آ کر حکومت مختلف مؤقف اختیار کرتی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کی مد میں سب سے زیادہ پیسے خیبرپختونخوا کو ملے، تقریباً 800 ارب روپے دیے گئے، لیکن اس کے باوجود نہ سی ٹی ڈی مضبوط ہے، نہ فارنزک لیب موجود ہے اور نہ ہی سیف سٹی منصوبہ مکمل ہو سکا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ فنڈز آخر کہاں گئے؟

ڈاکٹر عباد اللہ نے مزید کہا کہ فاٹا ریفارمز کے فنڈز پر بات کی جاتی ہے، مگر اس وقت حکومت بھی عمران خان کی تھی اور این ایف سی میں بھی ان کے نمائندے موجود تھے، پھر اس وقت مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟

انہوں نے شکوہ کیا کہ دیگر صوبے ترقی کر چکے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ ان کے بقول صوبائی حکومت کو سیاسی بیانات کے بجائے صوبے اور عوام کے اصل مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.