ٹرمپ کے افغان جنگ سے متعلق بیان پر برطانیہ میں شدید ردعمل، اتحادیوں کی قربانیوں کی توہین قرار

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان جنگ میں نیٹو افواج کے کردار سے متعلق بیان پر برطانیہ میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

برطانوی وزیر صحت اسٹیفن کنوک نے ٹرمپ کے دعوے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ اور دیگر اتحادی ممالک ہمیشہ امریکا کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ اس بات کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو ضرورت پڑی تو نیٹو اس کے ساتھ کھڑا ہوگا یا نہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغانستان میں نیٹو افواج محاذِ جنگ سے کچھ پیچھے رہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیفن کنوک نے کہا کہ یہ دعویٰ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے افغانستان میں جان دینے والے برطانوی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی افواج نے حب الوطنی، جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔  افغانستان جنگ میں 457 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ایملی تھورن بیری نے ٹرمپ کے بیان کو فوجیوں کی قربانیوں کی کھلی توہین قرار دیا، جبکہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ سر ایڈ ڈیوی نے کہا کہ انہیں یہ حق کس نے دیا کہ وہ ان قربانیوں پر سوال اٹھائیں؟

اسٹیفن کنوک نے کہا کہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اس معاملے پر صدر ٹرمپ سے براہِ راست بات کریں گے اور واضح کریں گے کہ برطانیہ اپنی افواج پر فخر کرتا ہے۔

افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجی ولیم ایلڈرج کی والدہ لوسی ایلڈرج نے کہا کہ ٹرمپ کے الفاظ انتہائی تکلیف دہ ہیں اور ان خاندانوں کے زخم تازہ کر دیتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔

ڈچ وزیر خارجہ ڈیوڈ فان ویل نے بھی ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی افواج نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ساتھ خون بہایا ہے اور اگر یہ دعویٰ دہرایا گیا تو حقیقت بھی بار بار بیان کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.