دہشت گرد پہلے پستول استعمال کرتے تھے، اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، طلال چوہدری

0

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ہم خود سوشل میڈیا کے متاثرین میں شامل ہیں، دہشت گردی کے طریقہ کار بدل چکے ہیں، پہلے دہشت گرد پستول استعمال کرتے تھے جبکہ اب سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان کی جانب سے پیش کیا گیا پیکا قانون میں ترمیم کا بل زیر غور آیا، جسے تفصیلی بحث کے بعد اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ ان کے بل کی حمایت این سی سی آئی اے بھی کر رہا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پی ٹی اے یا این سی سی آئی اے کی درخواست کے باوجود قابل اعتراض مواد نہیں ہٹاتیں تو ایسی صورت میں کیا کارروائی کی جائے گی؟

ڈی جی این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تعاون کے لیے رابطہ اور باضابطہ درخواستیں کی جا چکی ہیں۔

انوشہ رحمان نے کہا کہ وہ برسوں سے یہی سنتی آ رہی ہیں کہ ایک واضح طریقہ کار ہونا چاہیے جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز قابل اعتراض مواد ہٹائیں۔ ماضی میں سروس پرووائیڈرز یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ جب تک قانونی طور پر جرم ثابت نہ ہو، مواد نہیں ہٹایا جا سکتا۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی آئی ٹی منسٹری کا دائرہ اختیار ہے، جس پر انوشہ رحمان نے جواب دیا کہ اس وقت قانون تو وزارت داخلہ کے پاس ہی موجود ہے۔

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کے معاملے پر پوری دنیا پاکستان پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ ہم آزادی اظہارِ رائے پر قدغن لگا رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گرد اب سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سروس پرووائیڈرز کو قانون کے تحت پابند کیا جائے تاکہ قابل اعتراض مواد کا مؤثر سدباب ممکن ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.