طالبان رجیم کو سفارتی محاذ پر ایک اور دھچکا، روسی رابطوں اور افغانوں کی امریکی آبادکاری پر پیش رفت نہ ہو سکی
افغانستان پر قابض طالبان رجیم کو سفارتی محاذ پر مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جہاں عالمی سطح پر نہ صرف سیاسی تنہائی برقرار ہے بلکہ اہم ممالک کی جانب سے کسی پیش رفت کے آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے۔
آریانہ نیوز اور افغان انٹرنیشنل کے مطابق روسی عہدیدار اور افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ ضمیر کابولوف نے واضح کیا ہے کہ افغان مسئلے پر روس کا امریکا کے ساتھ نہ تو کوئی رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی رواں سال کسی اجلاس کا انعقاد طے پایا ہے۔ ضمیر کابولوف کا کہنا تھا کہ روس اور امریکا کے درمیان افغانستان سے متعلق کوئی براہِ راست مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔
دوسری جانب مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے افغان باشندوں کی امریکا میں آبادکاری کے لیے قطر میں قائم کیمپ بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد افغان شہریوں کو عارضی طور پر اس کیمپ میں رکھا گیا تھا، تاہم اب اس سہولت کو ختم کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق روس اور امریکا کے درمیان عدم رابطہ اور افغان شہریوں کی آبادکاری کے عمل میں رکاوٹیں طالبان رجیم کے لیے سفارتی سطح پر مزید مشکلات کا سبب بن رہی ہیں، جس سے عالمی برادری میں اس کی پوزیشن مزید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
