پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہدف، سیاسی عدم استحکام نے معاشی ترقی کو نقصان پہنچایا، اسحاق ڈار
اسلام آباد:نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور اسے دنیا کی20 بڑی معیشتوں (جی 20) میں شامل کرنا ہدف ہے۔
حکومت کی توجہ قرضوں میں کمی، توانائی کے شعبے میں مالی استحکام اور سرکاری اداروں کی رائٹ سائزنگ پر ہے، سیاسی عدم استحکام نے معاشی ترقی کو نقصان پہنچایا۔
پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) اور کارپوریٹ پاکستان گروپ کے تعاون سے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نجکاری کے ذریعے 134 سے 135 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گنجائش پیدا ہوئی ہے، جسے بینکوں میں رکھنے کے بجائے پیداواری شعبوں میں استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔
انہوں نے کہاکہ سیاسی عدم استحکام نے ملکی معاشی ترقی کی رفتار کو شدید نقصان پہنچایا۔ توانائی کے شعبے کو معاشی رکاوٹ کے بجائے ترقی کا ذریعہ بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل اور ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس معاشی بحالی کی بنیاد ہے۔ چین کے ساتھ سی پیک ٹو کا آغاز اُڑان پاکستان وژن کے تحت کیا جا رہا ہے، جس میں ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور معدنیات کی ترقی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ تعاون میں ٹیرف ڈیلز کے ذریعے تجارت اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی تجدید 2027 میں متوقع ہے۔ خلیجی ممالک، ترکی اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ توانائی، لاجسٹکس اور دیگر شعبوں میں شراکت داری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی تمام تر کوششوں کا مقصد برآمدات کے مواقع پیدا کرنا اور مختلف ممالک کے ساتھ کاروباری روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات، موثر ٹیکس پالیسی اور شفاف نظام ناگزیر ہیں۔ اداروں کی بندش کا مقصد سبسڈیز میں موجود کرپشن کا خاتمہ ہے۔ سرکاری اداروں میں ہر سال ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جتنی ڈیوٹیز بڑھائی جاتی ہیں وہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، اس لیے ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ضروری ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے۔
’گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی۔ رواں برس جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی۔ غیربینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ 78 سال میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر ڈیوٹیز کم کی جا رہی ہیں۔ ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ صنعتوں کو دی جانے والی طویل المدتی مراعات ختم کرکے انہیں عالمی مارکیٹ کے قابل بنایا جائے گا۔
