ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے آپشنز: فضائی، میزائل اور سائبر کارروائیاں زیرِ غور
واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف عسکری آپشنز پر تفصیلی بریفنگ دی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ دفاع کے دو سینئر عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی ردِعمل میں فضائی طاقت اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان آپشنز کو ایران کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پینٹاگون کے منصوبہ سازوں نے صدر ٹرمپ کو سائبر آپریشنز اور نفسیاتی مہمات (Psychological Operations) کے آپشنز سے بھی آگاہ کیا ہے، جن کا مقصد ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے، مواصلاتی نظام اور سرکاری میڈیا کو متاثر کرنا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سائبر اور نفسیاتی کارروائیوں کو روایتی فوجی قوت کے ساتھ یکجا کر کے بھی ایک جامع آپشن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ بغیر وسیع زمینی جنگ کے دباؤ بڑھایا جا سکے۔
تاہم دونوں امریکی عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے خلاف جنگ کا کوئی حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا اور سفارتی راستے بدستور کھلے ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی اقدام سے قبل سیاسی و سفارتی نتائج کو مدِنظر رکھا جائے گا۔
