سانپوں کا خوف آڑے آ گیا، سارہ فرگوسن کی آسٹریلیا منتقلی پر تذبذب

0

لندن: برطانوی شاہی خاندان کی سابق رکن، سابق ڈچس آف یارک اور شاہ چارلس کی سابق بھابھی سارہ فرگوسن اپنے مستقبل کے حوالے سے ایک مشکل فیصلے سے دوچار ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ برطانیہ میں جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے معاملے پر بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کے باعث آسٹریلیا منتقل ہونے پر غور کر رہی ہیں، تاہم سانپوں سے شدید خوف ان کے لیے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سارہ فرگوسن، جنہیں عام طور پر فرگی کہا جاتا ہے، کافی عرصے سے آسٹریلیا میں رہائش اختیار کرنے کی خواہشمند ہیں، مگر وہاں کے جنگلی جانوروں خصوصاً سانپوں سے انہیں حقیقی اور شدید خوف لاحق ہے۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سابق شوہر پرنس اینڈریو کے شاہی ذمہ داریوں اور خطابات سے محروم ہونے کے بعد سارہ فرگوسن کو مختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث وہ برطانیہ سے باہر نئی زندگی شروع کرنے پر غور کر رہی ہیں۔

مزید برآں سنہ 2011 کی ایک ای میل بھی دوبارہ منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں سارہ فرگوسن نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو اپنا بہترین دوست قرار دیا تھا، جس کے بعد ان پر تنقید میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ادھر سارہ فرگوسن کی بڑی بہن جین فرگوسن لوئیڈیکے، جو آسٹریلیا میں مقیم ہیں، نے حالیہ برطانیہ کے دورے کے دوران ان کی مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔ تاہم سارہ فرگوسن کے لیے آسٹریلیا منتقلی کا فیصلہ تاحال غیر یقینی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.