تہران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا، امریکہ کی دھمکیوں پر آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک مؤقف
تہران: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کسی بھی دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا اور خدائی مدد و فضل سے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ احتجاج ایک جائز اور قانونی عمل ہے، تاہم احتجاج اور ہنگامہ آرائی میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران میں عوامی مطالبات کو انتشار پھیلانے یا تشدد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے متاثر افراد کا پُرامن احتجاج ان کا جائز حق ہے، تاہم حالیہ دنوں میں تشدد کے چند واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ عوامی املاک پر مجرمانہ حملے ناقابلِ برداشت ہیں۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو غیر ذمے دارانہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیغام ایسے عناصر کے زیرِ اثر ہے جو سفارت کاری سے خوفزدہ ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور اگر ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی تو افواج کو بخوبی معلوم ہے کہ کہاں اور کیسے نشانہ بنانا ہے۔
ایرانی قیادت کے ان بیانات کو امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
