کویت کا نیا اقامتی قانون نافذ، غیر ملکیوں کے بیرونِ ملک قیام کی مدت محدود
کویت سٹی: کویت نے غیر ملکی رہائشیوں کے لیے اقامتی قانون میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کا مقصد اقامتی نظام کو مزید مؤثر بنانا اور غیر ملکی آبادی کے نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔ نئے قواعد کے تحت بیرونِ ملک قیام کی مدت سے متعلق واضح حد مقرر کر دی گئی ہے، جس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔
کویت کی وزارتِ داخلہ کے مطابق نئے اقامتی قانون کے تحت کوئی بھی غیر ملکی شہری زیادہ سے زیادہ 6 ماہ تک کویت سے باہر رہ سکتا ہے۔ اس مقررہ مدت سے زائد بیرونِ ملک قیام کی صورت میں اقامتی حیثیت متاثر ہونے کا خدشہ ہوگا اور متعلقہ اقامہ منسوخی یا دیگر قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتا ہے۔
خلیج نیوز کے مطابق یہ فیصلہ اقامتی قانون کے نئے انتظامی ضوابط کا حصہ ہے اور اس کا اطلاق زیادہ تر تمام اقامتی زمروں پر ہوگا۔ تاہم سرمایہ کاروں اور جائیداد کے مالکان کو اس قانون میں کچھ حد تک استثنا حاصل ہوگا، جس کا اطلاق مخصوص شرائط کے تحت کیا جائے گا۔
نئے قواعد گھریلو ملازمین پر بھی لاگو ہوں گے جو آرٹیکل 20 کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے لیے بیرونِ ملک قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت 4 ماہ مقرر کی گئی ہے۔ اگر گھریلو ملازم کو اس سے زیادہ عرصے کے لیے چھٹی درکار ہو تو کفیل کو متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لینا لازم ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد اقامتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد، غیر قانونی قیام کی روک تھام اور امیگریشن نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، جبکہ طویل عرصے سے قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لیے بعض سہولتیں بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق 6 ماہ کی حد کا نفاذ کویت کی امیگریشن پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی ہے، جو مستقبل میں غیر ملکی آبادی کے انتظام، لیبر مارکیٹ اور اقامتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
