نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی کی تاریخی جیت، "اسلاموفوبیا کی نیویارک میں کوئی گنجائش نہیں” ، پہلے خطاب میں عوام سے وعدے
نیویارک: نیویارک سٹی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گیا، جب ظہران ممدانی نے میئر کا انتخاب جیت کر امریکہ کے سب سے بڑے شہر کے پہلے مسلم میئر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ظہران ممدانی نے کہا کہ "آج کے الیکشن نے ثابت کر دیا کہ امید اب بھی زندہ ہے، آج خوف کی شکست اور امید کی جیت ہوئی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ نیویارک کے عوام نے مورثی سیاست کو مسترد کر کے تبدیلی کو ووٹ دیا ہے۔ "یہ شہر آپ کا ہے، جمہوریت بھی آپ کی ہے اور مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے،” ظہران ممدانی کا کہنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک کے مزدور، ٹیکسی ڈرائیورز، نرسز اور ورکنگ کلاس اس کامیابی کے اصل ہیرو ہیں۔
ظہران ممدانی نے انتخابی مہم میں حصہ لینے والے ایک ہزار سے زائد رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے لیڈر شپ کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے، یہ سب آپ لوگوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔” انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت سکیورٹی، انصاف اور مساوات پر مبنی ہوگی، *”ہم آپ کے لیے لڑیں گے کیونکہ ہم آپ میں سے ہیں۔”
نومنتخب میئر نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ نیویارک میں اب اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ *”میں ایک مسلمان اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہوں، یکم جنوری 2026 سے ہم ایک ایسی شہری حکومت بنائیں گے جو سب کے لیے فائدہ مند ہوگی۔”*
ظہران ممدانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "ڈونلڈ ٹرمپ، مجھے پتا ہے آپ دیکھ رہے ہیں، اور میں آپ سے صرف چار الفاظ کہوں گا ۔ Turn The Volume Up.”
نومنتخب میئر نے اعلان کیا کہ وہ مزدوروں کے حقوق کے لیے یونینز کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور نیویارک سٹی کو تارکین وطن کے تعاون سے مزید مضبوط بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کرپٹ نظام کا خاتمہ کریں گے *”جس میں ارب پتی طبقہ ٹیکس سے بچ نکلتا ہے۔”*
خاندانی پس منظر:
ظہران ممدانی کا تعلق ایک علمی اور ثقافتی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد کمال ممدانی یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں کینیڈا منتقل ہوئے، جب کہ ان کی والدہ سلمیٰ ممدانی بھارتی نژاد سماجی کارکن ہیں۔ ظہران ممدانی خود یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی میں اپنے والدین کے ہمراہ نیویارک منتقل ہوگئے۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور سیاست میں آنے سے پہلے کمیونٹی آرگنائزر کے طور پر کام کیا۔ ممدانی نیویارک میں تارکین وطن، سیاہ فاموں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم رہے اور اب اسی جدوجہد کو بطور میئر عملی شکل دینے کا عزم رکھتے ہیں۔
