آئی پی پیز معاہدوں کی منسوخی سے 3600 ارب روپے کی بچت، حکومت کا بڑا فیصلہ

0

لاہور: آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں کی منسوخی اور نظرثانی سے حکومت کو کھربوں روپے کی خطیر بچت حاصل ہوئی ہے۔ وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق حکومت نے دباؤ کے باوجود متعدد نجی بجلی گھروں کے معاہدے منسوخ کیے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً 3600 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

ذرائع کے مطابق بیس سال قبل 40 سے زائد آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کی پیداوار کے مہنگے معاہدے کیے گئے تھے، جن کے تحت ان کمپنیوں کو بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود کپیسٹی چارجزکی مد میں اربوں روپے کی ادائیگیاں کی جا رہی تھیں۔ ان معاہدوں کے تحت عوام کی جیبوں سے ہر سال 3.6 ٹریلین روپے نکلوائے جانے کا بوجھ ڈالا جا رہا تھا۔

وزارتِ توانائی کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے تفصیلی جائزے کے بعد ایسے تمام معاہدوں کی نشاندہی کی جن سے قومی معیشت پر غیر ضروری بوجھ پڑ رہا تھا۔ متعدد آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے منسوخ اور کچھ میں نظرثانی کے بعد نئے نرخ مقرر کیے گئے، جس سے ملک کو مستقبل میں اربوں روپے کے نقصان سے بچایا گیا۔

دوسری جانب صنعتکار برادرینے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چند دہائیاں قبل کیے گئے آئی پی پیز معاہدوں نے ملکی معیشت کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ تقریباً 40 خاندانوں نے ان معاہدوں کے ذریعے بند پاور پلانٹس کے باوجود اربوں روپے وصول کیے، لہٰذا ایسے تمام عناصر کے خلاف **قانونی کارروائی** عمل میں لائی جائے جنہوں نے قومی وسائل کو نقصان پہنچایا۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومت اسی پالیسی کو برقرار رکھے اور بجلی کی پیداواری لاگت میں شفاف اصلاحات متعارف کرائے تو آئندہ برسوں میں توانائی کے شعبے میں نمایاں بہتری ممکن ہے، جس سے صنعتی پیداوار میں اضافہ اور عام صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کا راستہ ہموار ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.