سی ٹی ڈٰی کی بروقت کارروائی ،پنجاب بڑی تباہی سے بچ گیا، 18 دہشتگرد گرفتار

0

لاہور:پنجاب بڑی تباہی سے بچ گیا، سی ٹی ڈی کے بروقت اور مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز نے دہشتگردوں کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا۔ دہشتگرد صوبے کے مختلف شہروں میں حملوں کی منصوبہ بندی مکمل کر چکے تھے، تاہم سی ٹی ڈی کی کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف اہم دہشتگرد گرفتار ہوئے بلکہ بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

دہشتگردی کے خدشات کے پیشِ نظر صوبہ پنجاب میں سکیورٹی اداروں کی کڑی نگرانی کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ سی ٹی ڈی (سنٹرل ٹِیکٹیکل ڈیپارٹمنٹ) نے بتایا کہ ایک ماہ کے دوران پنجاب کے مختلف شہروں میں کل 386 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کیے گئے جن میں سے متعدد کارروائیوں میں مجموعی طور پر 18 دہشت گرد گرفتار ہوئے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائیاں لاہور، منڈی بہاؤ الدین، خوشاب، بہاولپور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرانوالہ، نارووال، پاکپتن، بھکر اور دیگر اضلاع میں انجام پائیں۔سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشتگرد بین اضلاعی نیٹ ورک کا حصہ تھے اور کچھ شہر میں دھماکہ خیز کارروائی کی پلاننگ پوری کر چکے تھے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق ایک انتہائی خطرناک دہشت گرد تنظیم کا اہم رکن گرفتار ہوا، جب کہ کچھ ملزمان نے مختلف مقامات پر حملے کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔گرفتار افراد کی شناخت محمد کریم، علی رضا، محمد عزیز، محمد علی، ہاشم، نور الامین، سلیم، صدام وغیرہ کے ناموں سے ہوئی ہے، انتظامیہ نے مزید تحقیقات جاری رکھی ہیں۔

آپریشنز کے دوران اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا جس میں 3 ای ائی ڈی بم، 13 ڈیٹونیٹر، حفاظتی فیوز وائر، پمفلِٹس، نقدی اور پرائمہ کارڈ وغیرہ شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ برآمدہ مواد واضح طور پر مہلک کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔

ترجمان کے مطابق رواں ماہ مجموعی طور پر 4,601 کومبنگ آپریشنز کیے گئے جن کے دوران 320 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور 109,892 افراد سے تفتیش و رجسٹریشن کی گئی۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں جاری وسیع سکیورٹی مہم کی عکاسی کرتے ہیں۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان نے کہا کہ سی ٹی ڈی محفوظ پنجاب کے ہدف پر ثابت قدم ہے اور دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ مشکوک سرگرمیوں سے متعلق فوراً متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ مزید حملوں کو روکنے میں معاونت ملے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.