طورخم سرحد افغان شہریوں کی واپسی کے لیے کھول دی گئی، تجارتی سرگرمیاں تاحال معطل
خیبر: پاکستان نے طورخم سرحدی گزرگاہ کو افغان شہریوں کی واپسی کے لیے آج سے کھول دیا ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بدستور معطل رہیں گی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق امیگریشن اور کسٹم عملے کو صبح سات بجے طلب کیا گیا تاکہ افغان شہریوں کی واپسی کے عمل کو منظم انداز میں چلایا جا سکے۔ طورخم بارڈر 20 اکتوبر سے پاک افغان کشیدگی کے باعث ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند تھا۔
ذرائع کے مطابق طورخم پر افغان شہریوں کی بڑی تعداد واپسی کے لیے جمع ہے، جب کہ پاکستانی حکام نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر خیبر بلال شاہد راؤ نے تصدیق کی کہ واپسی کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا، جب کہ تجارت کھولنے سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان کا ردِعمل پہلے سے زیادہ سخت اور مؤثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ طے شدہ سرحدی میکانزم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔طلال چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان پرامن تعلقات کا خواہاں ہے لیکن قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
