تجارت لوگوں کی جانوں سے بڑھ کر نہیں، سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے تک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بند رہے گی، پاکستان

0

اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ ایمبیسڈر طاہر اندرابی نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ کل، 25 اکتوبر کو ترکیہ میں ہوگا۔ترجمان کے مطابق مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی سکیورٹی اور انسدادِ دہشتگردی کے امور زیرِ غور آئیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

ترجمان نے بتایا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے اسرائیل کو ایک بار پھر ہدایت دی ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائے۔یہ عدالت کا اس نوعیت کا چوتھا فیصلہ ہے۔ پاکستان نے اس معاملے میں تحریری اور زبانی دلائل کے ذریعے عدالت میں مؤقف پیش کیا۔

ایک سوال کے جواب میں، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 24 اکتوبر اقوام متحدہ کا دن اور آزاد کشمیر کا یومِ تاسیس دونوں ایک ہی دن منائے جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی مسئلہ کشمیر کی قانونی حیثیت کو واضح کرتی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی خطرات سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ آزاد کشمیر کو لاحق بھارتی خطرات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔بھارت زور زبردستی سے کشمیر کی حدود پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ استنبول میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات دراصل دوحہ مذاکرات کا تسلسل ہیں۔ان مذاکرات کا بنیادی مقصد افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں کو روکنا اور ایک مؤثر مانیٹرنگ میکنزم قائم کرنا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاک افغان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ برقرار ہے اور اس کے بعد سے پاکستان پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پوری ایمانداری کے ساتھ استنبول مذاکرات میں شرکت کر رہا ہے۔مذاکرات کا مقصد باہمی سکیورٹی، سرحدی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ استنبول میں پاکستانی وفد کی تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی گئیں۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے واضح کیا کہ صادق خان اس مرحلے کے مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے، تاہم مذاکرات کی سربراہی اعلیٰ سطح کے سرکاری نمائندے کریں گے۔ترجمان کے مطابق یہ مذاکرات پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور رابطے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا حصہ ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے حوالے سے بتایا کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدات کو سٹریم لائن کرنے اور ان پر عملدرآمد میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب توانائی، سرمایہ کاری اور روزگار کے شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ایمبیسڈر طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ افغان رجیم اس معاہدے کو جو بھی نام دے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے ایک اہم دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔ترجمان کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام اور خطے میں سکیورٹی تعاون کے لیے ایک بنیادی قدم ہے۔

کنڑ دریا پر مجوزہ ڈیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دریاؤں کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین واضح ہیں، جن میں لوئر رائپیرین (پانی کے زیریں حق دار) ممالک کے حقوق کا احترام لازم ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان ان قوانین کے تحت اپنے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ اس وقت معطل ہے، اور سکیورٹی صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی اسے بحال کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ تجارتی بندش سے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں، مگر شہریوں کی جان و مال کی حفاظت سب سے زیادہ اہم ہے۔

شرم الشیخ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پاک افغان جنگ بندی ممکن ہوئی، جس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی سمجھتا ہے۔

بھارت کی جانب سے افغانستان میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ معاملہ ہے، اور پاکستان اس پر تبصرہ نہیں کرتا۔ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کے لیے صرف ایک چیز اہم ہے ۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ افغانستان پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم رابطہ کوریڈور ہے۔ پاکستان پوری ایمانداری کے ساتھ افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ چونکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اس لیے وہ اپنے الفاظ میں مکمل احتیاط برتیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی واحد خواہش ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے مذاکراتی ایجنڈے کا محور صرف ایک نکتہ ہے۔ افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی کا خاتمہ اور ایک مؤثر مانیٹرنگ میکنزم کا قیام۔ پاکستان ان مذاکرات میں خلوص نیت کے ساتھ شریک ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی ممکن ہو سکے۔

افغانستان میں ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے سوال کے جواب میں ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ معاملہ نیا نہیں بلکہ ظاہر شاہ اور سردار داؤد کے دورِ حکومت سے جاری ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو تاریخی تناظر میں دیکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق پیشرفت ہو۔

ترجمان نے بھارت کی جانب سے افغانستان میں چھ ڈیموں کی تعمیر کے لیے تین ارب ڈالر دینے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم انتہائی خطیر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ بھارت اتنا شہ خرچ ہے کہ افغانستان کو 6 ڈیم بنانے کے لیے 3 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل مطالبہ کرتا آیا ہے کہ بھارت اپنی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کرے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.