غزہ میں امن معاہدے کے قریب، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے اس منصوبے کی حمایت کی، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے آج ایک تاریخی دن ہے، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے غزہ میں میرے امن منصوبے کی مکمل حمایت کی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم غزہ میں امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، امن معاہدے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ نیتن یاہو سے ہونے والی ملاقات میں ان سے متعلق اہم امور پر بات چیت ہوئی، غزہ جنگ کا خاتمہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے ویژن کا چھوٹا سا حصہ ہے۔
امریکی صدر نے کہاکہ حماس سے عرب ممالک بات کریں گے، اگر مزاحمتی تنظیم کی جانب سے معاہدہ قبول نہ کیا گیا تو پھر نیتن یاہو کی مرضی جو چاہیں کریں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بہترین انسان ہیں جبکہ امیر قطر غیرمعمولی شخصیت کے مالک ہیں۔ ملاقات میں نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کی مخالفت کی ہے، ہم غزہ میں موجود یرغمالیوں میں سے 32 افراد کی لاشیں اور 22 افراد کی زندہ واپسی چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ہم غزہ میں عبوری انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے، میری سربراہی میں امن کونسل غزہ کی عبوری انتظامیہ کی تشکیل کی ذمہ دار ہوگی۔
امریکی صدر نے کہاکہ غزہ اتھارٹی کا صدر میں خود ہوں گا، جبکہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اس کے رکن ہوں گے۔ نئی حکومت فلسطینیوں اور دنیا بھر کے ماہرین پر مشتمل ہوگی۔انہوں نے کہاکہ میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کرتا ہوں، مسلم ممالک نے غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ کچھ ممالک نے ناسمجھی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا ہے، بہت سے فلسطینی سکون سے زندگی جینا چاہتے ہیں۔امریکی صدر نے کہاکہ حماس نے اگر اس معاہدے کو قبول کرلیا تو یرغمالیوں کی رہائی میں 72 گھنٹوں سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔
