خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا فیصلہ، پیرسوہاوا میں ’’کے پی ہاؤس‘‘ تعمیر ہوگا
خیبرپختونخوا حکومت نے اسلام آباد کی سرحد کے قریب واقع سیاحتی مقام پیرسوہاوا میں ’’کے پی ہاؤس‘‘ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 50 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ عمارت سرکاری رہائش اور انتظامی مقاصد کے ساتھ ساتھ صوبائی مہمانوں کے لیے قیام و طعام کی سہولت فراہم کرے گی۔ تاہم اس منصوبے نے اسلام آباد میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ عمارت وفاقی دارالحکومت پر دباؤ ڈالنے یا ’’جمپ آف پوائنٹ‘‘ کے طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
سیاسی و عوامی حلقوں میں اس خبر کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے منصوبے کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس کے لیے قانونی اور بلدیاتی منظوری حاصل کی گئی ہے یا نہیں۔
ادھر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ پیرسوہاوا وفاقی دارالحکومت کے بالکل قریب واقع ہے، اس لیے کسی بھی بڑے منصوبے کے آغاز سے پہلے وفاقی اداروں کو اعتماد میں لینا لازمی ہے۔
ابھی تک کے پی حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی شفافیت، سیکیورٹی پہلو اور بجٹ کے استعمال کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے۔
