افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی ہورہی ہے، امن کیلئے کوئی بھی ایکشن لینا پڑا تو لیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی ہورہی ہے، ملک میں امن کے قیام کے لیے کوئی بھی ایکشن لینا پڑا تو لیں گے۔
بنوں سی ایم ایچ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ پاک فوج کے زخمی جوانوں کی عیادت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ریاست اور افواجِ پاکستان دہشتگردوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے عزم پر قائم ہیں اور اس راہ میں ہمارے جوان اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔
انہوں نے شہدا کی عظیم قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان قربانیوں کی لاج رکھنی ہوگی اور ان بہادر جوانوں کے اہلِ خانہ کی پکار پر سنجیدہ توجہ دی جائے گی۔
شہباز شریف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ملک میں ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بھی اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کے وہ حق دار ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں فتنہ الخوارج کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہاکہ پوری قوم بھارت کی پراکسیز کے خلاف متحد ہے اور خوارج اور بھارتی پراکسیز کو ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے تیار ہے۔
وزیر اعظم @CMShehbaz اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف کا دورہ بنوں
وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے دہشت گردی سے متعلق اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی، سیکیورٹی ذرائع
وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے جنوبی وزیرستان آپریشن میں 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں بھی… pic.twitter.com/eRV3ht0XTD
— Azhar Javaid (@azharjavaiduk) September 13, 2025
افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ اگر کابل حکومت سچائی کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے تو پاکستان اس کے لیے تیار ہے، مگر واضح پیغام ہے کہ پاکستان یا خارجیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے۔ دہشت گرد افغانستان سے آ کر پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، اگر افغانستان دہشتگردوں کی پشت پناہی کرے گا تو پھر ہمیں نگراں افغان حکومت سے کوئی سروکار نہیں۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ایک منصوبہ کابینہ میں پیش کیا جا رہا ہے جس پر تفصیلی بحث ہوگی اور اس کے بعد ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو یکسر رد کرتی ہے۔
