آپریشن “غضب للحق” دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تسلسل قرار، افغان طالبان  رجیم  خطے میں “پراکسی ماسٹر” کے طور پر کام کر رہی ہے:سکیورٹی ذرائع

0

اسلام آباد:خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی آئی ایس پی آر میں اہم نشست منعقد ہوئی جس میں آپریشن“غضب للحق”  کے تناظر میں علاقائی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کو افغانستان  اور افغان عوام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، تاہم افغان طالبان کی موجودہ حکومت خطے میں دہشت گردی کی ایک مرکزی “پراکسی ماسٹر” کے طور پر کام کر رہی ہے جو متعدد دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ افغان طالبان حکومت کو پاکستان کے ساتھ مثبت تعلقات یا دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بریفنگ کے مطابق آپریشن غضب للحق دراصل پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا تسلسل ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردی کی سرپرستی کے مکمل خاتمے کی قابلِ یقین ضمانت اور عملی اقدامات سامنے نہیں آتے۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ فتنہ الخوارج اسلام کے نام پر ایک مسخ شدہ اور خودساختہ نظریہ پھیلا رہے ہیں جبکہ اسلام کا دہشت گردی اور خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔ معصوم شہریوں کا قتل عام، خواتین پر مظالم، مساجد پر حملے اور مذہبی مقامات کا دہشت گردی کے لیے استعمال اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اقدار کے منافی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان دہشت گردی میں ملوث فتنہ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے ٹھکانوں، سہولت کاری کے مراکز اور سرحدی لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنا رہا ہے اور تمام کارروائیاں مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر صرف دہشت گردوں کے خلاف کی جا رہی ہیں۔

بریفنگ میں اس تاثر کو بھی مسترد کیا گیا کہ ان کارروائیوں میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ایسی رپورٹس حقائق کے منافی ہیں اور دہشت گردی کے نتیجے میں معصوم پاکستانی جانوں کے ضیاع سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہیں۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ وزارتِ اطلاعات اور سکیورٹی ادارے شفاف رپورٹنگ کے تقاضوں کے تحت آپریشن غضب للحق کی پیش رفت سے میڈیا اور عوام کو مسلسل آگاہ کر رہے ہیں جبکہ مستند ویڈیو رپورٹس بھی جاری کی جا رہی ہیں۔

بریفنگ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے ہاتھوں متاثرہ مختلف طبقات اس آپریشن کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ افغان سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بھارتی سرپرستی میں بعض میڈیا ادارے اس حوالے سے جھوٹی اور من گھڑت افواہیں پھیلا رہے ہیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 200 سے زائد کامیاب کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قومی اتحاد اور  نیشنل ایکشن پروگرام  پر مکمل عمل درآمد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات پر یقین رکھتا ہے اور اپنی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.