کوئی جا کر چیف جسٹس کو نہیں بتاتا کہ کیسے کیسے جج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے گئے؟ جسٹس محسن اختر
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر اور کراس ورژن پر الگ الگ ٹرائل اور فیصلوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی نظام اور ڈیپوٹیشن پر تعینات ججز کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم کی اپیل کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ کون سے جج تھے جنہوں نے ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ سنا دیا۔
دورانِ سماعت وکیل نے بتایا کہ کیس کا فیصلہ جج افضل مجوکہ نے کیا تھا، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بار سے کوئی جا کر چیف جسٹس کو نہیں بتاتا کہ لاہور سے کیسے کیسے جج ڈیپوٹیشن پر لائے گئے ہیں؟ ایسے جج لائے جاتے ہیں جو بغیر گواہوں کے فیصلے کر دیتے ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ ججز سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، مگر قتل جیسے سنگین مقدمات میں جلد بازی ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے پراسیکیوٹرز کی تربیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹرز کی ٹریننگ کرائی جائے تاکہ نظام انصاف بہتر بنایا جا سکے۔
عدالت نے ممبر انسپکشن ٹیم کو بھی ہدایت کی کہ ججز کی تربیت کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
