ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی کی رضا پہلوی سے خفیہ ملاقات، ایران میں مظاہروں پر تبادلہ خیال
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور شاہِ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کے درمیان خفیہ ملاقات کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ ملاقات ویک اینڈ پر ہوئی، جس میں ایران میں جاری مظاہروں اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایران میں حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے بعد یہ پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات ہے جو کسی نمایاں ایرانی حکومت مخالف شخصیت اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان ہوئی۔ اس ملاقات کو ایران کے اندرونی حالات اور اپوزیشن سے متعلق امریکی پالیسی کے تناظر میں خاص اہمیت حاصل ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملاقات میں ایران میں عوامی احتجاج، انسانی حقوق کی صورتحال اور مستقبل کے ممکنہ سیاسی منظرنامے پر گفتگو کی گئی، تاہم دونوں فریقین کی جانب سے باضابطہ طور پر ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
پس منظر:
رضا پہلوی ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے ہیں، جو 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ایرانی حکومت کے ناقد اور بیرونِ ملک مقیم ایرانی اپوزیشن کی ایک نمایاں آواز سمجھے جاتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ایران میں مہنگائی، سیاسی پابندیوں اور دیگر مسائل کے خلاف مظاہروں میں شدت آئی ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایران کی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اشارہ دیا تھا کہ وہ رضا پہلوی سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ “ایک اچھے انسان لگتے ہیں” لیکن موجودہ وقت میں ایسی ملاقات “مناسب نہیں ہوگی”۔ اس بیان کے باوجود ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی کی یہ خفیہ ملاقات امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی یا لچک کی علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
