وینزویلا کے بعد ٹرمپ کے ممکنہ اگلے ہدف کون سے ممالک ہو سکتے ہیں؟
نیویارک: ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2026 کا آغاز ایک غیر معمولی اور متنازع فوجی کارروائی سے کیا، جس کے تحت وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا۔ اس اقدام نے امریکی خارجہ پالیسی میں براہِ راست غیر ملکی مداخلت کے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب صدر ٹرمپ 2025 میں نوبل امن انعام حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اپنی عالمی ساکھ کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم کراکس میں ہونے والی اس کارروائی نے واضح کر دیا کہ ٹرمپ وہی سخت گیر حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں جس کے خلاف وہ ماضی میں سیاسی مہم چلاتے رہے۔
ٹائم میگزین کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں فوجی کارروائی کے بعد دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اب دیگر ممالک بھی امریکی مداخلت کا ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر کولمبیا کے ساتھ صدر ٹرمپ کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، جہاں انہوں نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو منشیات کے غیر قانونی نیٹ ورکس سے جوڑتے ہوئے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
اسی طرح کیوبا سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیانات میں تضاد دیکھا گیا ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے کیوبا کو ناکام ریاست قرار دیا، جبکہ بعد ازاں کہا کہ وہاں کسی قسم کی مداخلت کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ نظام خود ہی گر جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق وینزویلا میں کارروائی نے صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کی پرانی خواہش کو بھی دوبارہ اجاگر کر دیا ہے، جسے ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن پہلے ہی سختی سے مسترد کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ کولمبیا کو بھی واشنگٹن کی جانب سے سخت پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق وینزویلا کے بعد امریکی خارجہ پالیسی ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مزید ممالک ممکنہ دباؤ یا کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
