یکم جنوری سے پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان

0

اسلام آباد:یکم جنوری 2026 سے صارفین کو پیٹرول پمپوں پر بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث حکام نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 60 پیسے فی لیٹر تک کمی متوقع ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 59 پیسے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے۔ اسی طرح مٹی کا تیل 8 روپے 92 پیسے فی لیٹر سستا ہو سکتا ہے، جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6 روپے 62 پیسے فی لیٹر کمی متوقع ہے۔

اگر اس تجویز کی منظوری دے دی گئی تو پیٹرول کی قیمت موجودہ 263.45 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر تقریباً 252.85 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 265.65 روپے سے کم ہو کر 257.06 روپے فی لیٹر تک آنے کا امکان ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت بھی 180.54 روپے سے کم ہو کر 171.62 روپے فی لیٹر ہو سکتی ہے۔

حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا، تاہم عوام کو نئے سال کے آغاز پر پیٹرولیم قیمتوں میں واضح ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

 عوام کو کتنا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ متوقع کمی براہِ راست عوام کے روزمرہ اخراجات پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔  موٹر سائیکل اور کار استعمال کرنے والے شہریوں کے ماہانہ ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف ماہانہ 100 لیٹر پیٹرول استعمال کرتا ہے تو اسے تقریباً **1,060 روپے** کی بچت ہو سکتی ہے۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر:

  ہائی اسپیڈ ڈیزل سستا ہونے سے بسوں، ویگنوں اور مال بردار گاڑیوں کے اخراجات کم ہوں گے، جس سے کرایوں میں استحکام یا کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

مہنگائی پر اثر:

  ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کے اخراجات گھٹانے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے مجموعی مہنگائی کے دباؤ میں کچھ کمی متوقع ہے۔

زرعی شعبہ:

  ڈیزل سستا ہونے سے زرعی مشینری اور ٹیوب ویل کے اخراجات کم ہوں گے، جس کا فائدہ کسانوں کو مل سکتا ہے۔مجموعی طور پر اگر یہ کمی برقرار رہتی ہے تو نئے سال کے آغاز پر عوام کو نہ صرف ایندھن کی قیمتوں میں بلکہ مہنگائی کے دباؤ میں بھی جزوی ریلیف ملنے کی امید ہے، تاہم اصل فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ یہ کمی کس حد تک اور کتنے عرصے تک برقرار رہتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.