جکارتہ کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکا، 54 افراد زخمی ، صدر آصف زرداری کا اظہارِ افسوس اور یکجہتی کا پیغام

0

جکارتہ / اسلام آباد: انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایک اسکول کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکےکے نتیجے میں 54 افراد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، دھماکا اس وقت ہوا جب بڑی تعداد میں نمازی جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد مسجد میں بھگدڑ مچ گئی جبکہ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر دھماکے کی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔

صدرِ پاکستان کا اظہارِ افسوس:

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جکارتہ کی مسجد میں ہونے والے دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں صدر زرداری نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف عالمی کوششوں میں انڈونیشیا کے ساتھ مکمل یکجہتیکا اظہار کرتا ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ: “پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف بھاری قربانیاں دے چکی ہے اور ہمیں بخوبی احساس ہے کہ ایسے سانحات کتنے المناک ہوتے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی نے ان کی اپنی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے، تاہم “ہم نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی۔”

عالمی ردِعمل:

سفارتی ذرائع کے مطابق، کئی ممالک نے جکارتہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انڈونیشی حکومت سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ انڈونیشی حکام نے تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی مفروضے سے گریز کی ہدایت کی ہے۔دھماکے کے بعد جکارتہ میں سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور مساجد سمیت عوامی مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.