سکھ یاتریوں کیساتھ آنیوالے 12 ہندوؤں کو واپس بھارت بھیج دیا گیا
لاہور: ہر سال کی طرح اس سال بھی بھارت سمیت دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری اپنے روحانی پیشوا بابا گرونانک دیو جی کے یوم پیدائش کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچے۔
حکومت پاکستان نے حسب روایت سکھ یاتریوں کو خصوصی اجازت نامے جاری کیے تاکہ وہ ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک کے جنم دن کی مرکزی تقریبات میں شریک ہو سکیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق سکھ یاتریوں کو مکمل سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ننکانہ صاحب جانے کی اجازت دی گئی، جہاں گرودوارہ جنم استھان میں عقیدت مند اپنے مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں۔
تاہم امیگریشن حکام نے اس موقع پر بھارت سے آنے والے بارہ ہندو زائرین کو وطن واپس بھیج دیا۔ حکام کے مطابق یہ افراد سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان پہنچے تھے مگر ان کے پاس مذہبی دورے کے لیے جاری کردہ سکھ یاتری پرمٹ نہیں تھا۔
امیگریشن حکام نے بتایا کہ ان بارہ افراد کی جائے پیدائش پاکستان کے صوبہ سندھ کی ہے لیکن اب وہ بھارتی شہریت اختیار کر چکے ہیں، اس لیے انہیں پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
حکام کے مطابق حکومت پاکستان نے بابا گرونانک کے یوم پیدائش کی تقریبات کے موقع پر صرف سکھ یاتریوں کے داخلے کی اجازت دی ہے تاکہ مذہبی رسومات اور زائرین کی آمد و رفت کا عمل منظم انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنے والے سکھ یاتریوں نے پاکستان کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور حکومت پاکستان اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
