ٹرمپ نے ریپبلکن امیدوار کی شکست کی دو وجوہات بتا دیں، ظہران ممدانی کی جیت ڈیموکریٹس کے لیے تاریخی سنگِ میل قرار

0

نیویارک: نیویارک کے میئر کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مسلم امیدوار ظہران ممدانی کی تاریخی جیت نے نہ صرف نیویارک سٹی بلکہ امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ریپبلکن امیدوار اینڈریو کومو کی شکست کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس نتیجے کو "متوقع مگر افسوسناک” قرار دیا اور اس کی دو وجوہات بیان کیں۔

الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد اپنی سوشل میڈیا سائٹ "ٹروتھ سوشل”پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ریپبلکن امیدوار کی شکست کی پہلی وجہ یہ تھی کہ "میں بیلٹ پر نہیں تھا” اور دوسری وجہ امریکہ میں جاری "شٹ ڈاؤن” ہے جس نے ووٹرز کے موڈ کو بدل دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ "اگر انتخابی فضا مختلف ہوتی تو نتائج بھی مختلف ہوتے۔”

دوسری جانب، آزاد امیدوار اور ٹرمپ کے حمایت یافتہ سابق گورنر اینڈریو کومونے شکست تسلیم کرتے ہوئے ظہران ممدانی کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ "عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا ہے اور ممدانی کی جیت نیویارک کے لیے نئے دور کی شروعات ہے۔”

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی نیویارک کے الیکشن سمیت ملک بھر میں ڈیموکریٹس کی فتوحات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب جامع، منصفانہ اور مساوات پر مبنی سیاست چاہتے ہیں۔”

تجزیہ کاروں کی رائے:

امریکی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ظہران ممدانی کی جیت کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما رہے۔سیاسی مبصر جوناتھن ریڈکے مطابق، "نیویارک ایک کثیرالثقافتی شہر ہے جہاں اسلاموفوبیا کے خلاف ممدانی کا واضح مؤقف اور ان کی کمیونٹی ورکنگ کلاس سے جڑی سیاست نے ووٹرز کو متاثر کیا۔”

ایک اور تجزیہ کار ایملی سینڈرز کا کہنا ہے کہ "ریپبلکن پارٹی کو شہری علاقوں میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ نوجوان ووٹرز، خواتین اور تارکین وطن کے ووٹ زیادہ تر ڈیموکریٹس کے حق میں جا رہے ہیں۔”

سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہر ڈاکٹر مارک ہیملٹن نے کہا کہ "ٹرمپ کا نام اب بھی تقسیم پیدا کرتا ہے، اور ان کی حمایت حاصل کرنے والے امیدواروں کو شہری الیکشنز میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔”

تجزیہ کاروں کے مطابق، ظہران ممدانی کی مہم نے "تبدیلی” اور "امید” کا بیانیہ مضبوط انداز میں پیش کیا، جب کہ ریپبلکن امیدوار اینڈریو کومو اپنی مہم کے دوران عوامی مسائل پر مؤثر پیغام دینے میں ناکام رہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ظہران ممدانی کی جیت نہ صرف نیویارک بلکہ امریکی سیاست میں ایک علامتی موڑ ہے۔جہاں متنوع شناخت، مذہبی رواداری اور سماجی انصاف کو ووٹ ملا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.