پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں جاری، دہشتگردی سے متعلق مانیٹرنگ میکنزم کی تشکیل زیر غور

0

استنبول :پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کم کرنے اور سکیورٹی تعاون کے فروغ کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور ترکیہ کے شہر استنبول میں جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات ایک مقامی ہوٹل میں ہورہے ہیں جن کی میزبانی ترکیہ کے اعلیٰ حکام کر رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے دو رکنی اعلیٰ سطحی وفد مذاکرات میں شریک ہے، جبکہ افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ مجیب کر رہے ہیں۔ افغان وفد میں قطر میں افغان سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ، افغان وزیر داخلہ کے بھائی انس حقانی، نور احمد نور، وزارت دفاع کے عہدیدار نورالرحمان نصرت اور افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان بھی شامل ہیں۔

مذاکرات میں دہشتگردی سے متعلق ایک مشترکہ مانیٹرنگ میکنزم کی تشکیل پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ سرحد پار دہشتگردی، حملوں اور ان کی معاونت کے حوالے سے معلومات کے تبادلے اور نگرانی کے مؤثر طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد مذاکرات کے لیے اپنی جامع تجاویز لے کر گیا ہے، جن میں افغانستان سے پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی روک تھام، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ نگرانی کے نظام کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔

قطر اور ترکیہ کی  زیر نگرانی  پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔

ادھر پاک افغان کشیدگیکے باعث چمن، خیبر، جنوبی و شمالی وزیرستان اور ضلع کرم کے سرحدی راستے14 ویں روز بھی بند ہیں۔ تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے باب دوستی، طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان سرحد پر سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، جس سے تاجروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر استنبول مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو آئندہ چند روز میں سرحدی گزرگاہوں کی جزوی بحالی اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات متوقع ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.