امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا کے خلاف جلد زمینی کارروائی کا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا جلد ہی وینزویلا کے خلاف زمینی کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وینزویلا سے امریکا کو متعدد محاذوں پر خطرات لاحق ہیں، جنہیں اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ “مختلف وجوہات” کی بنیاد پر وینزویلا سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث اب عملی اقدام ناگزیر ہو چکا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ "منشیات اسمگلرز کے خلاف اعلانِ جنگ کی ضرورت نہیں، جو لوگ امریکا میں منشیات لارہے ہیں، ہم انہیں مار ڈالیں گے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے سمندر کے راستے منشیات کی ترسیل روکنے کے لیے جامع اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ٹرمپ نے تاہم ان رپورٹس کی تردید کی کہ امریکا نے وینزویلا کے قریب B-1 بمبار طیارے تعینات کیے ہیں۔ ان کے بقول یہ خبریں “بے بنیاد اور غلط” ہیں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ کولمبیا منشیات کا گڑھ بن چکا ہے جبکہ میکسیکو پر ڈرگ کارٹیلز کا کنٹرول ہے۔ ان کے مطابق امریکا خطے میں منشیات کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائی کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ چین فینٹانائل جیسی خطرناک منشیات کی اسمگلنگ کے لیے وینزویلا کو استعمال کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ چینی صدر کے ساتھ آئندہ ملاقات کے نتائج مثبت ہوں گے۔روسی تیل کمپنیوں پر امریکی پابندیوں سے متعلق سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ “روس کو چھ ماہ بعد پتا چلے گا کہ ان پابندیوں کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔”
ایک اور سوال پر صدر ٹرمپ نے اعتماد ظاہر کیا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق کوئی اقدام نہیں کرے گا، اور امریکا مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔
