قابض انتظامیہ نے میر واعظ عمر فاروق کو نظر بند کر دیا، نمازِ جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی
سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما میر واعظ عمر فاروقنے انکشاف کیا ہے کہ انہیں جمعۃ المبارک سے ایک دن قبل گھر میں نظر بندکر دیا گیا ہے اور نمازِ جمعہ کے لیے مسجد جانے کی اجازت** نہیں دی جا رہی۔
میر واعظ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ "آخر یہ کون سا قانون ہے جس کے تحت عبادت کو جرم بنا دیا گیا ہے اور بنیادی مذہبی و انسانی حقوق زبردستی سلب کیے جا رہے ہیں؟”
انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ جب چاہے پابندیاں عائد کر دیتی ہے۔ کبھی جمعے کے دن اور کبھی کسی اور موقع پر جبکہ عوامی نمائندگی کے دعویدار ادارے اور شخصیات خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
نمک حرام افغان طالبان کا وفد بھارت جا کر مودی کی کشمیر پر حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔
آج انکے سوشل میڈیا پر موجود چیلے ہم پاکستانیوں کو بتاتے ہیں کہ یہ اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں؟ تم لوگوں نے پاکستان اور بالخصوص کشمیر کے مسلمانوں سے بدترین غداری کی ہے۔
سب یاد رکھا جائے گا pic.twitter.com/A1SLdgjxo5
— Dr Farhan K Virk (@FarhanKVirk) October 23, 2025
میر واعظ عمر فاروق کے مطابق علما کونسل کا اجلاس بھی گزشتہ روز زبردستی ناکام بنایا گیا**، جو ان کے بقولآمرانہ طرزِ حکمرانی** کی واضح مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ "یہ صرف میری ذات کے خلاف نہیں بلکہ مذہبی فرائض اور عوامی جذبات کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔”
میر واعظ نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں **مذہبی آزادیوں پر پابندیوں کا سنجیدہ نوٹس لیں۔
