امریکی پابندیوں سے چھوٹ کا خاتمہ: بھارت کی چابہار حکمت عملی پر کاری ضرب
چابہار ایران کی ایک بندرگاہ ہے جو خلیجِ عمان سے جڑی ہے۔ یہ بحیرہ عرب کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔
چابہار بندرگاہ کو ‘گیٹ وے ٹو سینٹرل ایشیا’ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ افغانستان، وسطی ایشیائی ممالک اور ایران کو سمندر سے جوڑنے کا ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے جو پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے مقابلے میں بھارت کے لیے ایک سٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔
واضح رہے چابہار بندرگاہ کی ترقی میں سنجیدگی 2000 کی دہائی میں سامنے آئی لیکن بھارت نے 2016 میں ایران کے ساتھ معاہدہ کر کے بندرگاہ کی توسیع اور انتظام میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس کا مقصد پاکستان کو بائی پاس کرکے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ 2018 میں بھارت نے چابہار بندرگاہ کے ایک حصے کا رسمی طور پر آپریشنل کنٹرول بھی سنبھالا۔
ایران کی چابہار بندرگاہ، جو طویل عرصے سے بھارت کے لیے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی تھی، اب امریکی پابندیوں کی نئی لہر کی زد میں آ گئی ہے۔ 29 ستمبر 2025 کو امریکا کی طرف سے بھارت کو دی گئی پابندیوں سے چھوٹ واپس لینے کے بعد چابہار پر بھارتی سرگرمیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہیں۔
