بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار

0

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور مسلم امریکن لیڈرشپ الائنس (MALA) کے زیر اہتمام ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں مقررین نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان عالمی وعدوں کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

مقررین نے بھارتی اقدام کو بین الاقوامی قوانین، بشمول انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔پاکستان کے مستقل مندوب اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے کلیدی خطاب میں خبردار کیا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے نتائج خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ڈپٹی مستقل مندوب پاکستان، سفیر عثمان جادون نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد اور اس کی بحالی کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق اقوام متحدہ، عالمی بینک اور سول سوسائٹی پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے نفاذ، مذاکرات کے فروغ اور مشترکہ حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چونکہ سندھ طاس معاہدے کا ضامن عالمی بینک ہے، اس لیے اس اقدام پر عالمی بینک کی باضابطہ پوزیشن اہمیت رکھتی ہے۔

بین الاقوامی برادری خاص طور پر جنوبی ایشیا میں پانی کے وسائل کو ہتھیار بنانے کے ممکنہ خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹیاں بھی مستقبل قریب میں اس معاملے پر بحث کر سکتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.