جنگ بندی برقرار، ایران کو آبنائے ہرمز میں ٹیکس وصول نہیں کرنے دیں گے، امریکی وزیر جنگ

0

واشنگٹن :امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ہم نے ایرانی بندرگاہوں کا گھیراؤ کیا ہوا ہے، آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ہے، ایران کو ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس وقت ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار رہے۔

امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکی بحریہ نے ایران سے آنے والے جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کردیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکی فورسز کو آبنائے ہرمز یا ایرانی حدود میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپریشن پروجیکٹ فریڈم ایپک فیوری سے الگ اور عارضی ہے، جو صدر ٹرمپ کی ہدایت پر شروع کیا گیا۔

امریکی وزیر جنگ نے کہاکہ ایک بات واضح ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔امریکی وزیرِ جنگ نے کہاکہ ایران کا منصوبہ بین الاقوامی سطح پر بھتہ خوری کے مترادف ہے اور یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

ان کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے تاکہ تجارتی سرگرمیاں آزادانہ طور پر جاری رہ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنایا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

پیٹ ہیگستھ نے کہاکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے سیکڑوں بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے کارگو کمپنیوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران تیل کی ترسیل اور نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈال کر عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس موقع پر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہاکہ ایران جان بوجھ کر پڑوسی ممالک پر حملے کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکی فوج ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم ہمیں حکم کا انتظار ہے۔

انہوں نے کہاکہ پروجیکٹ فریڈم کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کی بحالی ہے، ہم ایران کی چھوٹی کشتیوں اور ڈرونز سے نمٹ رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.