آئی ایم ایف کی شرط پر شوگر سیکٹر ڈی ریگولیشن پلان تیار، وزیراعظم کو پیش

0

اسلام آباد: حکومت نے آئی ایم ایف  کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے گندم کے بعد شوگر سیکٹر کو بھی ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت تیار کردہ پلان منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ڈی ریگولیشن کے تحت شوگر ملز کے لائسنس، امپورٹ اور ایکسپورٹ سمیت پورے شعبے کو آزاد کیا جائے گا۔ اس حوالے سے پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے آمادگی ظاہر کر دی ہے، جبکہ سندھ کی جانب سے سفارشات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔

وزارت صنعت و پیداوار  کی جانب سے پیش کیے گئے پلان میں کسانوں کے تحفظ اور کارٹلائزیشن کی روک تھام کے لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔

منصوبے کے تحت کسانوں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور کسی مخصوص زون یا اقسام کی پابندی ختم کر دی جائے گی۔ کسان اپنی پیداوار کسی بھی شوگر مل کو فروخت کرنے یا گڑ بنانے کے لیے آزاد ہوں گے، جبکہ گنے کی قیمت کا تعین مارکیٹ کرے گی۔

ذرائع کے مطابق شوگر ملز، جو سال کے تقریباً آٹھ ماہ بند رہتی ہیں، بیرون ملک سے خام مال منگوا کر چینی تیار کر سکیں گی۔ اس کے علاوہ حکومت چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی نہیں دے گی اور ملک میں نئی شوگر ملز کے قیام پر عائد پابندی بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پلان میں یہ بھی شامل ہے کہ کسانوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے ممنوعہ گنے کی اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کی جائے، جبکہ شوگر ملز کو درآمد شدہ خام مال سے چینی تیار کر کے برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

حکام کے مطابق یہ اصلاحات شوگر سیکٹر میں مسابقت بڑھانے، قیمتوں میں شفافیت لانے اور معیشت پر بوجھ کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.