یکے بعد دیگرے کیسز میں سزائیں، عمران خان کی رہائی کے امکانات مزید معدوم

0

اسلام آباد: توشہ خانہ ٹو کیس میں گزشتہ ماہ سزا پانے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے امکانات مزید معدوم ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی قید کا دورانیہ مزید طویل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اکتوبر 2025ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں عمران خان کو درپیش قانونی مشکلات اور طویل عدالتی ٹائم لائن کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم دسمبر 2025ء میں توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

اس وقت دونوں متعدد مقدمات میں دی جانے والی سزاؤں کے تحت جیل میں ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے کسی فوری ریلیف کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

ماہرینِ قانون کے مطابق اب اپیل کا مرحلہ خود ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سنائی گئی 14 سال قید کی سزا کے خلاف اپیل جنوری 2025ء میں دائر کی گئی تھی، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ اپیل سماعت کیلئے مقرر نہیں ہو سکی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی فکسیشن پالیسی کے مطابق فوجداری اپیلیں سختی سے سینیارٹی کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہیں، جس کے تحت پرانے اور سنگین نوعیت کے مقدمات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس وجہ سے عمران خان کی اپیل سے قبل دائر کی گئی درجنوں اپیلیں پہلے ہی زیرِ التوا ہیں، جس کے باعث فوری سماعت کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، سوائے اس کے کہ عدالت خود ترجیحی بنیادوں پر سماعت کا فیصلہ کرے۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق اگر ترجیحی فکسیشن نہ دی گئی تو القادر ٹرسٹ کیس کی اپیل کی باقاعدہ سماعت میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل کو بھی اسی نوعیت کی تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے۔

قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایک مقدمے میں بالآخر ریلیف بھی مل جائے تو دوسری سزا عمران خان کو بدستور جیل میں رکھے گی۔

دوسری جانب 9 مئی سے متعلق متعدد مقدمات بھی مختلف مراحل پر زیرِ التوا ہیں۔ پی ٹی آئی کے قانونی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ استغاثہ کے پاس مقدمات کو طول دینے کی گنجائش موجود ہے، جس کے باعث کسی ایک کیس میں ضمانت یا بریت کے باوجود فوری رہائی کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.