18ویں ترمیم ختم کرنے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات نہیں ہوں گے؟ شرجیل میمن
کراچی: وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اٹھارویں ترمیم ختم کرنے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے گل پلازہ جیسے سانحات خود بخود رک جائیں گے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ انتہائی افسوسناک اور دردناک ہے، جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور پوری قوم اس غم میں برابر کی شریک ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کسی بھی انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس وقت ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت ملبے سے لاشوں کو نکال کر لواحقین کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے بھی شناخت کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق سانحے میں 86 افراد لاپتہ تھے، جن میں سے دو افراد اسپتال میں پائے گئے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی ہے اور انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ شرجیل میمن کے مطابق ہر جاں بحق فرد کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کے دوران ایک فائر فائٹر شہید ہوا، جس پر حکومت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور شہید فائر فائٹر کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ یکم جنوری 2024 کو ایک رپورٹ کمشنر کراچی کو بھیجی گئی تھی اور دو جنوری کو کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو عمارتوں کے آڈٹ سے متعلق ہدایات جاری کیں۔ ان کے مطابق سانحے کی تحقیقاتی رپورٹ آنے تک کسی بھی قسم کا حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ گل پلازہ کو نوٹس جاری ہوا تھا یا نہیں اور اگر کہیں کوتاہی ثابت ہوئی تو حکومت سخت کارروائی کرے گی۔ تاجروں کی ایسوسی ایشن کو بھی ایس او پیز پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے گا۔
شرجیل میمن کے مطابق پورے پاکستان میں تقریباً 90 فیصد عمارتیں پرانی ہیں، جہاں ایمرجنسی ایگزٹ اور حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں، اس لیے صرف انتظامی تبدیلیوں سے نہیں بلکہ جامع اصلاحات سے ہی ایسے سانحات کو روکا جا سکتا ہے۔
