کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ہیڈکوارٹر میں بھی فائر سیفٹی نظام موجود نہیں، کارکردگی پر سنگین سوالات
اسلام آباد: کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے اپنے ہیڈکوارٹر میں بھی فائر سیفٹی میکنزم موجود نہیں، جس کے باعث ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ 18 سال کے دوران بھرتی کیے گئے عملے کی باقاعدہ تربیت بھی نہیں کروائی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے پاس فائر سروس کے لیے 250 فائر اسٹاف جبکہ ایمبولینس سروس کے لیے 100 افراد پر مشتمل عملہ موجود ہے۔
اس کے علاوہ ادارے کے پاس 23 ایمبولینسز اور 20 فائر وہیکلز ہیں، تاہم کنٹرول روم میں وہیکل ٹریکنگ کے لیے کوئی مؤثر سافٹ ویئر موجود نہیں، جس کے باعث ایمرجنسی رسپانس میں تاخیر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیار کے تحت اسلام آباد میں کم از کم 14 ایمرجنسی اسٹیشن ہونے چاہئیں، جبکہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے پاس صرف 4 اسٹیشن موجود ہیں۔ اس کمی کے باعث ادارے کا ریسپانس ٹائم 17 سے 50 منٹ تک پہنچ چکا ہے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہیڈکوارٹر میں فائر سیفٹی نظام کی عدم موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ادارہ خود بنیادی حفاظتی تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری طور پر اسٹاف کی تربیت، جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی، اسٹیشنز کی تعداد میں اضافہ اور فائر سیفٹی نظام کی تنصیب ناگزیر ہے تاکہ دارالحکومت میں ایمرجنسی سروسز کو مؤثر اور بروقت بنایا جا سکے۔
