وزیراعظم شہباز شریف کا نیووٹیک کی کارکردگی پر اطمینان، تربیتی پروگرامز کے نئے اہداف مقرر کرنے کی ہدایت
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نیووٹیک (NAVTTC) کی حالیہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تکنیکی و فنی تربیتی پروگرامز کے نئے اہداف مقرر کرنے اور اپرینٹس شپ قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ملک میں پیشہ ورانہ تربیت کے نئے متعارف کردہ ایکوسسٹم پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیووٹیک کے تحت جاری تربیتی پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر نجی شعبے کے تھرڈ پارٹی ویلڈیٹرز، صنعتی شعبے کے شراکت دار، پیشہ ورانہ فرمز، چیمبرز آف کامرس کے نمائندے، کاروباری ایسوسی ایشنز کے نمائندے اور مصنوعی ذہانت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نیووٹیک نے وزیرِ اعظم کے تفویض کردہ تربیتی پروگرامز کے اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں اور تربیتی پروگرامز میں طلباء و طالبات کی بائیومیٹرک حاضری کے ساتھ ساتھ ٹرینرز کے معیار کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ نیووٹیک کے تمام پارٹنر تربیتی اداروں میں بائیومیٹرک نظام کے تحت حاضری لاگو کی جائے اور صوبائی اداروں کے ساتھ تعاون کو بڑھایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد تربیت حاصل کر سکیں۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ نیووٹیک کے تحت گزشتہ برس 1,46,000 افراد نے تربیت حاصل کی جبکہ 15,000 سے زائد افراد کو بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز فراہم کی گئیں۔ تکامل کے ذریعے 3 لاکھ سے زائد افراد نے تربیت حاصل کی اور 2,80,000 سے زائد پاکستانی سعودی عرب میں اس نظام کے ذریعے روزگار حاصل کر چکے ہیں۔ مزید یہ کہ 350 سے زائد اداروں کی جانچ کے بعد انہیں بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرنے کا لائسنس دیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے نیووٹیک کی کامیاب کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوان افرادی قوت صلاحیتوں سے بھرپور ہے اور انہیں عالمی معیار کے مطابق تربیت فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے نیووٹیک کے نظام کی مکمل ڈیجیٹائزیشن اور آن لائن مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نیووٹیک کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، فِن ٹیک، کان کنی، سیاحت، اسپورٹس، ہاسپیٹیلٹی اور چِپ بلڈنگ سمیت بین الاقوامی سطح پر طلب والے شعبوں میں تربیتی پروگرامز جاری ہیں اور ملک بھر کے مدرسہ جات میں بھی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے مزید ہدایت کی کہ جن اداروں کی کارکردگی اطمینان بخش نہ ہو، ان کی رکنیت معطل کر دی جائے۔
