تین ٹاؤن کارپوریشنز کے قیام کا اعلان :صدر مملکت آصف زرداری نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس پر دستخط کر دئیے
اسلام آباد:صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے ساتھ ہی یہ آرڈیننس باقاعدہ طور پر جاری ہو گیا ہے۔
آرڈیننس کے تحت اسلام آباد میں میٹرو پولیٹن سسٹم کی جگہ ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی، تاکہ مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط اور شہری سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔
ٹاؤن کارپوریشنز کا ڈھانچہ:
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی حدود کے مطابق 3 ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور دو ڈپٹی میئرز ہوں گے۔ہر ٹاؤن کارپوریشن کے اندریونین کونسلز کی تعداد وفاقی حکومت نوٹیفائی کرے گی۔ہر یونین کونسل میں 9 جنرل ممبران اور 4 مخصوص نشستوں کے ارکان ہوں گے، جن میں خواتین، کسان یا ورکز، تاجر یا بزنس مین، نوجوان اور غیر مسلم شامل ہوں گے۔
یونین کونسلز اور انتخابات:
یونین کونسل کے جنرل ممبران خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب ہوں گے۔ہر ووٹر ایک جنرل ممبر کے لیے ووٹ ڈالے گا اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے نو امیدوار جنرل ممبران منتخب ہوں گے۔
جنرل ممبران اور مخصوص نشستوں کے ممبران کے ذریعے چئیرمین اور وائس چئیرمین شو آف ہینڈ کے ذریعے منتخب ہوں گے۔
یونین کونسل کا چئیرمین ٹاؤن کارپوریشن کے جنرل ممبر کے طور پر حصہ لے گا، اور ٹاؤن کارپوریشن کے ممبران اکثریتی ووٹ کے ذریعے مشترکہ میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کریں گے۔
مقامی حکومت اور ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات:
جہاں مقامی حکومت فعال نہ ہو، وہاں حکومت ایڈمنسٹریٹر تعینات کرے گی۔مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹرٹیکس، فیس، کرایہ، ٹول اور دیگر چارجز لگانے کے مجاز ہوں گے، تاہم ہر ٹیکس یا فیس کی تجویز پہلے حکومت کی توثیق کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹر حکومت کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔
آرڈیننس کے مقاصد:
آرڈیننس کا بنیادی مقصد اسلام آباد میں مقامی حکومت کے نظام کو فعال بنانا، شہری سہولیات کی بہتر فراہمی کو یقینی بنانا، ٹاؤن کارپوریشنز اور یونین کونسلز کے اختیارات واضح کرنا اور فیصلہ سازی میں شفافیت اور عوامی شمولیت کو بڑھانا ہے۔
یہ آرڈیننس وفاقی دارالحکومت میں مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں، ٹیکس اور فیس کے نظام، شہری انتظامات اور شفاف حکمرانی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
