پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنے والی بھارتی خاتون واہگہ بارڈر کے راستے بھارت روانہ
لاہور :پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنے والی بھارتی خاتون سربجیت کور کو آج واہگہ بارڈر پہنچا دیا گیا، جہاں سے انہیں باقاعدہ قانونی کارروائی اور پریڈ کے بعد بھارتی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔ رینجرز ذرائع کے مطابق بھارتی خاتون کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھیجنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
سربجیت کور کے وکیل احمد حسن پاشا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سربجیت کور کو اس کی مرضی اور رضامندی سے بھارت واپس بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارنر ایکٹ 1946 کے تحت سربجیت کور فی الحال پاکستان میں قیام کی اہل نہیں تھیں، جس کے باعث انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وکیل کے مطابق سربجیت کور مستقبل میں اسپوز ویزہ (Spouse Visa) پر دوبارہ پاکستان آئیں گی، جس کے بعد وہ مستقل رہائش کے لیے قانونی طریقہ کار کے تحت درخواست دیں گی۔
ذرائع کے مطابق سربجیت کور 4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے ایک جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور ان کے ویزے کی معیاد 13 نومبر تک تھی، تاہم ویزا ختم ہونے کے باوجود وہ واپس بھارت نہیں گئی تھیں، جس پر قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
سربجیت کور نے پاکستان میں قیام کے دوران اسلام قبول کیا تھا، جس کے بعد ان کا نام نور فاطمہ رکھا گیا۔ انہوں نے پاکستانی شہری ناصر حسین سے پسند کی شادی کی۔ دونوں کے درمیان پہلی بار 2016 میں سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا تھا، جو بعد ازاں محبت اور شادی پر منتج ہوا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر سرحد پار شادیوں، ویزا قوانین اور انسانی جذبات سے جڑے حساس معاملات کو اجاگر کرتا ہے، جس پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
