نیویارک/نئی دہلی: عالمی روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کیا ہے، جس میں مسلمانوں کے بعد عیسائی بھی نشانے پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت ملک میں مذہبی اقلیتوں کے لیے زندگی دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مختلف ریاستوں میں عیسائیوں کے عبادت خانوں، اسکولوں اور کمیونٹی مراکز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ ان کے مذہبی اجتماعات میں بھی مداخلت کی جاتی رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، مقامی حکام کی جانب سے عیسائی مذہبی تقریب یا چرچ کی تعمیر کی اجازت دینے میں تعطل، ان کی معاشرتی سرگرمیوں میں رکاوٹ، اور بعض جگہوں پر دھمکیاں اور تشدد کے واقعات عام ہیں۔
میڈیا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ عیسائی طلبہ اور کمیونٹی کے افراد کو اسکولوں اور کالجوں میں نفرت انگیز رویے کا سامنا ہے، جبکہ حکومتی اقدامات کی عدم موجودگی اور مقامی پولیس کی غفلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ مسلمانوں کے خلاف جاری ہندوتوا پالیسی کے بعد دیگر اقلیتوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ وہ بھی اب محفوظ نہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بھارتی حکومت کے رویے کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس سلسلے میں تشویش ظاہر کرنی چاہیے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال سنگین ہو رہی ہے، اور ملک کی جمہوری بنیادیں خطرے میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عیسائیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ بھارت میں اقلیتوں کے لیے طویل مدتی خدشات کو جنم دے رہا ہے، جبکہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت میں مذہبی آزادی کے خاتمے کے حوالے سے مسلسل تنبیہ کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں کی حفاظت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
