ہم ’جے شری رام‘ اور ’جے بھارت ماتا‘ نہیں کہیں گے، کشمیر میں آزادیٔ اظہار ختم ہو چکی ہے: التجا مفتی
سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے کہا ہے کہ کشمیر میں آزادیٔ اظہار تقریباً ختم ہو چکی ہے اور یہاں ہندوتوا نظریے کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ انہیں ’جے شری رام‘ اور ’جے بھارت ماتا‘ کہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
سری نگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہا کہ موجودہ حالات میں جموں و کشمیر میں بولنے اور رائے دینے کی آزادی باقی نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’آپ کو معلوم ہے کہ یہاں صورتحال کیا ہے، تین دن پہلے وی پی این تک بند کر دیے گئے، جس کا مطلب ہے کہ اظہارِ رائے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔‘‘
انہوں نے ایک سال قبل منتخب ہونے والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس حکومت سے بہت امیدیں تھیں، مگر نہ صرف یہ کہ کوئی عملی کام نہیں ہو رہا بلکہ حکومت اپنی آواز بلند کرنے سے بھی گریزاں ہے۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے عوام میں شدید مایوسی اور غصہ پایا جاتا ہے۔
التجا مفتی نے کہا کہ اگر کشمیر میں لوگ فلسطین کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں تو اس میں کوئی غلط بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’لندن، یورپ، امریکا، ہارورڈ اور آئیوی لیگ یونیورسٹیوں میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں کس طرح لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور ایک پوری نسل کو مٹایا جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کشمیر میں عوام کو ہر معاملے میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ قانون کے نام پر کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہاں قانون کی عملداری ختم ہو چکی ہے۔
VIDEO | Srinagar: At a one-day Youth Convention in Lawaypora, PDP leader Iltija Mufti (@IltijaMufti_) says,“I believe there is no freedom of expression. Even VPNs were banned three days ago, and the elected government has remained silent and ineffective. I see nothing wrong in… pic.twitter.com/KFV3urBFYL
— Press Trust of India (@PTI_News) January 2, 2026
ایک سوال کے جواب میں پی ڈی پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اتحادی خواتین کے حجاب اور ماسک اتارنے جیسے اقدامات کر رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری طلبہ اور کشمیری شال فروشوں کو ہماچل پردیش اور ہریانہ میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
التجا مفتی نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں وہ صاف کہنا چاہتی ہیں کہ کشمیر میں ہندوتوا کو فروغ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کشمیری عوام اپنے وقار، شناخت اور آزادیٔ اظہار کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
