غزہ میں انسانی بحران انتہائی سنگین، اسرائیل فوری طور پر امدادی رکاوٹیں ختم کرے: پاکستان سمیت 8 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ
اسلام آباد: پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے فوری طور پر انسانی امداد کی ترسیل میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں شدید بارشوں، طوفانی موسم اور ناکافی انسانی رسائی نے پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ضروری انسانی امداد کی شدید قلت، بنیادی خدمات کی بحالی کے لیے درکار سامان کی سست رفتار آمد اور عارضی رہائش کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث لاکھوں فلسطینی بدترین حالات سے دوچار ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ خراب موسمی حالات نے غزہ میں انسانی صورتحال کی نازک حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں تقریباً 19 لاکھ بے گھر افراد ناکافی اور غیر محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ سیلاب زدہ کیمپ، تباہ شدہ خیمے، عمارتوں کے ملبے تلے دبنے کے واقعات، شدید سردی اور غذائی قلت نے شہریوں خصوصاً بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کے تمام اداروں، بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے، اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں اقوام متحدہ اور عالمی این جی اوز کو بلا تعطل، مستقل اور آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ امدادی سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے جنگ بندی کو پائیدار بنایا جائے، غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو اور فلسطینی عوام کو باعزت زندگی میسر آ سکے، جو بالآخر فلسطینی خودمختاری اور آزاد ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔
وزرائے خارجہ نے فوری طور پر ابتدائی بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور سخت سردی سے بچاؤ کے لیے باوقار، محفوظ اور پائیدار رہائش کی فراہمی پر زور دیا۔ اعلامیے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ بطور قابض طاقت وہ خیموں، پناہ گاہوں کے سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی ستھرائی کے سامان کی غزہ میں بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائے۔
اعلامیے میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے غزہ میں فوری، مکمل اور بلا تعطل انسانی امداد فراہم کی جائے، بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی کے اقدامات کیے جائیں اور رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھولا جائے، جیسا کہ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے میں طے کیا گیا ہے۔
