فیض حمید بانی پی ٹی آئی منصوبے کے سربراہ تھے، مزید قانونی کارروائی ہوگی: وزیر دفاع خواجہ آصف
سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید بانیٔ پی ٹی آئی کے سیاسی منصوبے کے سربراہ تھے اور ان کے خلاف مزید الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید کو 15 ماہ کی انکوائری اور قانونی کارروائی کے بعد سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ دیگر معاملات میں بھی قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فیض حمید عملی طور پر چار سال تک بانیٔ پی ٹی آئی کے روپ میں اقتدار پر اثرانداز رہے۔ ان کے مطابق 9 مئی کے واقعات ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے گئے جو فیض حمید اور بانیٔ پی ٹی آئی کا مشترکہ منصوبہ تھا۔
وزیر دفاع کے مطابق 9 مئی کی منصوبہ بندی اندرونی عناصر نے کی جبکہ افرادی قوت پی ٹی آئی کی جانب سے فراہم کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج بھی کچھ سازشی عناصر بانیٔ پی ٹی آئی کو دوبارہ سیاسی منظرنامے پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان سازشوں کی بنیاد سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے رکھی تھی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا سیاسی پروجیکٹ تقریباً بارہ سال قبل زور و شور سے شروع کیا گیا تھا۔ ان کے بقول لاہور میں ہونے والے پہلے جلسے کی تیاری بھی نادیدہ ہاتھوں نے کی، جبکہ اس پورے منصوبے کی نگرانی فیض حمید کر رہے تھے۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایک منظم سازش کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیا اور قید میں ڈالا گیا، جبکہ بانیٔ پی ٹی آئی کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید اور بانیٔ پی ٹی آئی نے مل کر ملک کو شدید نقصان پہنچایا اور عوام اب بخوبی جان چکے ہیں کہ بانیٔ پی ٹی آئی اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے۔
خواجہ آصف کے مطابق فیض حمید کے تبادلے کے بعد ان کے کردار سے پردہ اٹھنا شروع ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بطور کور کمانڈر بھی فیض حمید کو مختلف سہولتیں فراہم کی گئیں اور 9 مئی کے واقعات کے پیچھے بھی انہی کا منصوبہ کارفرما تھا جبکہ پی ٹی آئی نے اس کے لیے افرادی قوت فراہم کی۔
تجزیہ کاروں کی رائے:
وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیانات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے تعلقات پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی کا سیاسی عروج ایک منظم منصوبے کا نتیجہ تھا جس کی نگرانی سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کر رہے تھے۔
9 مئی کے واقعات کو موجودہ حکومت ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہی ہے جس کے ذریعے نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ مبینہ سرپرست کرداروں کو بھی قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق یہ کارروائیاں ریاستی رٹ کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات ملکی سیاست میں مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں اور عدالتی عمل پر سیاسی دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاست قانونی اور عدالتی محاذ پر مزید پیش رفت کی جانب بڑھتی نظر آ رہی ہے۔یہ معاملہ نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ مجموعی سیاسی نظام کے لیے ایک امتحان ہے، جس کے نتائج آنے والے وقت میں ملکی سیاست کا رخ متعین کریں گے۔
