پاکستان اور افغان طالبان میں سفارتی پیش رفت، چین کی ثالثی میں مذاکرات

0

اسلام آباد: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات میں بہتری کی ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چین کی ثالثی میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق چین کے شہر ارومچی میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی ورکنگ لیول مذاکرات جاری ہیں، جنہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں سیکیورٹی، سرحدی نظم و نسق اور باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی بات چیت کی جا رہی ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کر رہے ہیں جبکہ افغان وفد میں بھی اعلیٰ سطح کے حکام شریک ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق اس عمل کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

مذاکرات کے دوران دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال اور اعتماد سازی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہونے کی توقع ہے کہ باہمی اعتماد کو فروغ دے کر کشیدگی میں کمی لائی جائے۔

اس کے علاوہ سہ فریقی تعاون، خصوصاً چین کے ساتھ اقتصادی اور علاقائی روابط کے فروغ پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور قانونی تجارت کو فروغ دینے جیسے نکات بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کیے جانے کا بھی امکان ہے، جبکہ موجودہ دور میں پیش رفت کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ممکنہ بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات گزشتہ کچھ عرصے سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ سرحدی سکیورٹی، کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور سرحد پار حملوں کے الزامات رہے ہیں۔ پاکستان متعدد بار افغان سرزمین کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کر چکا ہے، جبکہ افغان طالبان بھی سرحدی معاملات پر اپنے مؤقف پر قائم رہے ہیں۔

چین نے خطے میں استحکام کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، کیونکہ بیجنگ نہ صرف علاقائی امن کا خواہاں ہے بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور خطے میں تجارتی روابط کے فروغ کو بھی اہم سمجھتا ہے۔ موجودہ مذاکرات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں، جن سے امید کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہوگی اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.