ایران سفارتی راستہ اختیار کرے، ورنہ انفرااسٹرکچر پر حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا: امریکی وزیر جنگ

0

واشنگٹن: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی فوج ایران میں زمینی کارروائی کے لیے تیار ہے، ایران سفارتی راستہ اختیار کرے، ورنہ انفرااسٹرکچر پر حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ  بھرپور طاقت سے ایران کے اندر حملے کر رہے ہیں، ایران کی فضائی حدود میں کارروائیاں کر رہے ہیں، امریکا کے پاس آپشن بہت زیادہ اور ایران کے پاس آپشن محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دن ایران جنگ کے لیے فیصلہ کُن ہوں گے اور ایران کچھ نہیں کر سکے گا، گزشتہ24گھنٹوں میں ایران کی طرف سےکم تعداد میں میزائل فائرکیے گئے۔

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایرانی فوج کو تباہ کردیا گیا ان کی فوجی قیادت مایوسی کا شکار ہے،  ایران کچھ میزائل فائر کرسکتا ہے ہم وہ میزائل گرادیں گے۔

پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران اگر ڈیل نہیں چاہتا تو امریکا مزید سخت حملے کرے گا، آپریشن اپیک فیوری میں اہداف کا حصول کامیابی سے جاری ہے ، آئندہ آنے والے دن ایران کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ  موجودہ ایرانی قیادت کو زیادہ عقلمندی دکھانی ہوگی،ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کرنےکےلیےکوششیں جاری رکھیں گے، صدر ٹرمپ کا شکریہ کہ آبنائے ہرمز سے مزید جہاز بھی گزر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ  معاہدے سے متعلق بات چیت جاری ہےا ور اس میں پیشرفت ہورہی ہے، ہم معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ جاری رکھنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی اسپیشل فورسز زمینی کارروائی کے لیے تیار ہیں، خطے میں اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ایرانی خطرے کو مستقل ختم کریں گے،  تہران کے پاس ہتھیار ڈالنے کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے،  امریکی فضائیہ اور بحریہ نے ایران کے دفاعی نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔

امریکی وزیر جنگ نے زور دیا کہ  ایران سفارتی راستہ اختیار کرے،  ورنہ انفرااسٹرکچر پر حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔ ایران کو اسٹریٹیجک تنصیبات بچانے کے لیے دی گئی مہلت میں مزید توسیع نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ  مذاکرات کی میز کھلی ہے لیکن فوجی دباؤ میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ جنگ کا ایک بڑا مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

 اسی پریس کانفرنس میں امریکی جنرل ڈین کین نے ایرانی بحریہ کے 150جہاز تباہ کرنے کا دعوی کیا کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی اہم صنعتوں اور تحقیقاتی مراکز پرحملے جاری ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.