ایران میں بچیوں کے سکول پر حملے کا واحد ذمہ دار امریکہ ہے: امریکی اخبار کا دعویٰ

0

نیویارک : ایک امریکی اخبار نے ایران میں ایک بچوں سے بھرے سکول پر ہونے والے مہلک حملے کی ذمہ داری براہِ راست امریکی فوج پر عائد کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے میں 150 سے زائد بچوں اور بچیوں سمیت مجموعی طور پر 175 افراد شہید ہوئے تھے۔

امریکی صدر نے اس واقعے کے بعد ابتدائی مؤقف میں ایران کو ذمہ دار قرار دیا تھا، لیکن امریکی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ امریکی فوج کی غلط نشانہ بندی (targeting error) کا نتیجہ تھا۔

اخبار کے مطابق 28 فروری کو شجرۃ طیبہ ایلیمینٹری سکول پر امریکی ساختہ ٹوماہاک میزائل کے حملے کے پیچھے پرانی اور غیر درست انٹیلی جنس ڈیٹا کا استعمال تھا، جو امریکی فوج کی جانب سے قریب واقع ایک ایرانی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کے عمل کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے افسران نے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کی جانب سے فراہم کردہ متروک ڈیٹا پر بھروسہ کیا، جس کی وجہ سے اسکول کو غلطی سے ہدف کے طور پر شناخت کر لیا گیا۔

 امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور کئی پہلوؤں کے بارے میں تاحال حتمی جواب نہیں مل سکے، بشمول اس کے کہ پرانے ڈیٹا کی دوبارہ جانچ کیوں نہیں کی گئی۔

امریکی اخبار کے مطابق بچوں سے بھرا سکول نشانہ بنانا تازہ ترین عشروں میں پیش آنے والی سب سے بڑی اور بھیانک فوجی غلطیوں میں سے ایک ہے۔ اس واقعے کی ذمہ داری امریکہ پر اس لئے بھی رکھی جا رہی ہے کیونکہ ٹوما ہاک میزائل صرف امریکی فوج استعمال کرتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.